1 اگست 2024 - 20:53
تمام فریق صبر و تحمل سے کام لیں۔ گوٹیرس / صہیونی ریاست نے ایران کی سالمیت پر حملہ کیا ہے۔ علی باقری

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے، شہید اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے پر "تمام فریقوں سے صبر و تحمل" کی اپیل کی اور اور ایرانی اہلکار نے جوابا کہا ہے کہ صہیونی ریاست نے ایران کی ملکی سالمیت پر جارحیت کرکے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گویٹریس نے اسلامی جمہوریہ ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ ڈاکٹر علی باقری سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے، شہید اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے پر "تمام فریقوں سے صبر و تحمل" کی اپیل کی۔ اس مکالمے میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال ہے۔

ڈاکٹر باقری نے اس موقع پر کہا: فلسطین کے مجاہد راہنما اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ پر صہیونیوں کا دہشت گردانہ حملہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ملکی سالمیت پر جارحیت سجھا جاتا ہے جس نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انھوں نے کہا: صہیونیوں نے دہشت گردی کرکے نہ صرف ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کو بزدلانہ انداز سے شہید کیا بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

انھوں نے کہا: صہیونی ریاست نے اس دہشت گردانہ اقدام میں صرف ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کو شہید نہیں کیا بلکہ ایران کی ملکی سالمیت اور حق خود مختاری کو پامال کر دیا، اور عالمی امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچایا، چنانچہ ایران مسلّمہ طور پر اپنے دفاع اور جرائم پیشہ صہیونیوں کو کڑی سزا دینے کا حق رکھتا ہے۔ 

انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی طرف اشارہ کیا اور امریکہ اور یورپی ممالک کے دباؤ پر، سلامتی کونسل کی طرف سے تہران میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت نہ ہونے کے عمل کی شدید مذمت کی۔

ڈاکٹر علی باقری نے آخر میں مطالبہ کیا کہ عالمی برادری صہیونی ریاست پر دباؤ ڈال کر غزہ میں اس کے جرائم کا راستہ روک لے اور غزہ کی پٹی کے مظلوم عوام کو تل ابیب پر مسلط جرائم پیشہ گینگ سے نجات دلائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے اس موقع پر کہا: میں نے دو بیان جاری کرکے جنوبی بیروت اور تہران پر صہیونی ریاست کے حملوں کی مذمت کی ہے، اور اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ایران کو اپنی قومی سلامتی اور ملک سلامتی کی خلاف ورزی پر، جائز دفاع کا حق حاصل ہے اور مجھے لبنان اور خطے میں وسیع پیمانے پر جنگ اور اس کے اثرات و نتائج پر تشویش ہے۔

ادھر ارنا نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک (Stéphane Dujarric) کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ کے ساتھ ٹلیفون پر رابطہ کرکے علاقائی صورت حال تبادلۂ خیال اور تشویش ظاہر کی ہے۔

سٹیفن دوجارک کے مطابق:

انتونیو گوترش نے اس ٹیلیفونک رابطے میں سب ہی فریقوں سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے اور بیروت اور تہران پر صہیونی ریاست کے حملوں اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ میں ہمہ گیر سفارتی اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یاد رہے کہ غاصب صہیونی ریاست نے  حماس کے سیاسی شعبے کے ڈاکٹر سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران پر حملے میں اس وقت شہید کیا جب وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے اور ایران کے سرکاری مہمان تھے اور ایک سفارت کار کی حیثیت سے تہران آئے تھے۔

گوٹیریس نے اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران بین الاقوامی برادری سے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ تاکہ ایسے کسی بھی اقدام کی روک تھام کی جاسکے جو مشرق وسطیٰ کو سخت بحران سے دوچار کر سکتا ہو۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنے سماجی رابطے کے ایکس پیج پر لکھا ہے کہ مقبوضہ جولان، بیروت اور تہران پر حالیہ اسرائیلی حملوں نے خطرناک کشیدگی کو جنم دیا ہے؛ اور امن صرف جامع سفارتی اقدام سے حاصل ہوسکتا ہے۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نکتہ: اقوام متحدہ اور نام نہاد عالمی برادری کا معمول یہ ہے کہ وہ غاصب صہیونی ریاست کو فلسطین میں قتل عام اور خطے کے ممالک پر جارحانہ حملوں کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں لیکن جب صہیونیوں سے بدلہ لینے کی باری آتی ہے تو وہ "تمام فریقوں" سے "صبر و تحمل" کی اپیل کرتے ہیں:)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110